فهرس الكتاب

الصفحة 3376 من 5274

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

باب: دھوکے والی بیع ناجائز ہے

3376 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ زَادَ عُثْمَانُ وَالْحَصَاةِ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ عثمان نے مزید کہا: بیع الحصاۃ سے بھی ( منع فرمایا ) ۔

(بیع الحصاۃ) کنکری پھینک کر بیع کرنا یعنی خریدار یا فروخت کرنے والا کہے کہ جب میں کنکری پھینک دوں گا تو بیع پختہ ہوجائےگی۔یا جس چیز پر کنکری پڑی وہ دے دوں گا یا لے لوںگا خریدوفروخت کا یہ انداز ممنوع ہے۔آجکل بھی ایسا جوا رائج ہے۔کہ آپ کا نشانہ جس چیز پر لگ جائے گا۔ اتنی قیمت میں وہ آپ کی ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت