فهرس الكتاب

الصفحة 5226 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: ایک شخص دوسرے سے کہے " میں تجھ پر واری ، تجھ پر قربان جاؤں "

5226 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِيَانِ ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ فَقُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا فِدَاؤُكَ

سیدنا ابوذر ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر ! " میں نے کہا: میں حاضر ہوں اور بڑا باسعادت ہوں ۔ اے اللہ کے رسول ! میں آپ پر فدا اور قربان ۔

یہ کلمہ میں تجھ پر واری قربان یا فدا معمولی کلمہ نہیں ہے ،رسول صلی اللہ علیہ وسلمکے بعد اسے وہیں استعمال ہونا چاہیے جہاں دنیا اور آخرت کی سعادت ہو ۔ مثلا صالح ماں ،باپ یا راسخ فی العلم ربانی علما جو دین کے صحیح معنی میں معلم اور داعی ہوں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت