فهرس الكتاب

الصفحة 4111 من 5274

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل

باب: اللہ کے فرمان «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر

4111 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ الْآيَةَ فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ وَالْقَوَاعِدُ مِنْ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا الْآيَةَ

سیدنا ابن عباس ؓ نے آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر میں فرمایا ( یہ عام الحکم تھا ۔ پھر بڑی عمر کی بوڑھی عورتوں کے حق میں ) اسے منسوخ کر کے انہیں اس حکم سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» یعنی بڑی عمر کی بوڑھی عورتیں جنہیں اب نکاح کی خواہش نہ ہو ۔ ( ان پر پردے کے احکام کی پابندی نہیں ہے ) ۔

اس آیت کریمہ کے اگلے الفاظ بڑے اہم ہیں ،ارشاد باری ہے تعالی ہے اگر وہ اپنے کپڑے اتار رکھیں توان پر کوئی گناہ نہیں نشرطیکہ اپنا بناو سنگھار ظاہر کرنے والی نہ ہوں تاہم اس میں احتیاط کریں تو بہت افضل ہے جب بڑی عمر کی عورتوں کو اظہار زینت حرام اور ناجائز ہے تو جوان دوشیزاوں کے لئے اور بھی حرام ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت