فهرس الكتاب

الصفحة 2869 من 5274

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل

باب: ماں باپ اور دوسرے( وارث )قرابت داروں کے لیے وصیت کرنا منسوخ ہے

2869 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ فَكَانَتْ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ

سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» " اگر مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابت داروں کیلئے وصیت کرے ۔ " کا حکم ابتداء میں ایسے ہی تھا حتیٰ کہ اسے آیت میراث نے منسوخ کر دیا ۔

درج زیل حدیث میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت