1415 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ قَالَ لَمَّا بَعَثْنَا الرَّكْبَ قَالَ أَبُو دَاوُد يَعْنِي إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ كُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَسْجُدُ فَنَهَانِي ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَسْجُدُوا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
ابو تمیمہ ھجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلے والوں کے ساتھ مدینہ آئے تو میں نماز فجر کے بعد وعظ کیا کرتا تھا اور اس میں سجدہ تلاوت کیا کرتا تھا ۔ پس سیدنا ابن عمر ؓ نے مجھ کو روکا ، تین بار ۔ مگر میں نہ رکا ۔ پھر پلٹ کر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ؓم کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں ۔ یہ حضرات سجدہ نہ کرتے تھے ، حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جاتا ۔
یہ حدیث ضعیف ہے۔اس لئے اوقات مکروہ میں نماز تو یقینا ً ناجائز ہے۔مگر سجدہ تلاوت نماز نہیں ہے۔بنا بریں اوقات مکروہہ میں سجدہ تلاوت جائز ہے۔