1435 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَتَى كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَوَسَطَهُ وَآخِرَهُ وَلَكِنْ انْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ
مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے دریافت کیا کہ رسول ﷺ کس وقت وتر پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے سب ہی اوقات میں وتر پڑھے ہیں ۔ رات کے شروع میں ، درمیان میں اور آخر میں بھی ۔ لیکن آخری زندگی میں آپ ﷺ کے وتر سحر کے وقت ہونے لگے تھے ۔
نماز وتر کا وقت آدھی رات تک ہے۔اور وتروں کا سحر (صبح صادق سے پہلے) تک۔