فهرس الكتاب

الصفحة 2400 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: جو کوئی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے باقی ہوں

2400 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:َ >مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ, صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ. قَالَ أَبو دَاود: هَذَا فِي النَّذْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جو کوئی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے رہتے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔ " ¤ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: یہ مسئلہ نذر کی صورت میں ہے اور امام احمد حنبل ؓ کا بھی یہی قول ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت