فهرس الكتاب

الصفحة 1474 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: قرآن یاد کر کے بھلا دینے کی مذمت

1474 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ

سیدنا سعد بن عبادہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو شخص قرآن پڑھ کر بھلا دے ، وہ قیامت کے روز اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ جذام زدہ ہو گا ۔ "

یہ روایت سندا ضعیف ہے۔یزید بن ابی زیاد ناقابل حجت ہے۔بہرحال یہ بہت بڑا عیب ہے کہ انسان قرآن پڑھ کر یا حفظ کرکے یا ترجمہ پڑھ کر بھلادے۔ظاہر ہے کہ یہ اسی وقت ہوتا ہے۔جب انسان غفلت شعار نہ ہو ورنہ اگر حافظہ ہی ساتھ چھوڑ جائے تو وہ اور بات ہے۔وہ ان شاء اللہ معاف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت