3389 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ مَا كُنَّا نَرَى بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ ہم مزارعت ( یعنی زمین بٹائی پر دینے ) میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے حتیٰ کہ میں نے سیدنا رافع بن خدیج ؓ سے سنا ' وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ ( عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ) میں نے یہ حدیث طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے سیدنا ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا تھا " تم اپنی زمین کسی کو عطیہ دے دو تو یہ محصول لینے سے بہتر ہے ۔ "
زمین کو بٹائی یاحصے پردینا حرام یا ناجائز نہیں۔لیکن اگر بلاعوض دیدے تو بہتر ہے۔