فهرس الكتاب

الصفحة 2390 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: جو شخص رمضان میں بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اس کا کفارہ؟

2390 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، فَقَالَ: >مَا شَأْنُكَ؟فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟، قَالَ: لَا، قَالَ: >اجْلِسْ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: >تَصَدَّقْ بِهِفَأَطْعِمْهُ إِيَّاهُمْ . وقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنْيَابُهُ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: میں تو مارا گیا ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " کیا ہوا ؟ " اس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستر ہو بیٹھا ہوں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ ایک گردن آزاد کر سکے ؟ " اس نے کہا: نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " کیا تو ہمت رکھتا ہے کہ دو ماہ متواتر روزے رکھے ؟ " اس نے کہا: نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " کیا تجھے طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکے ؟ " اس نے کہا: نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " بیٹھ جاؤ ۔ " چنانچہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا ، اس میں کھجوریں تھیں ۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا " ان کو صدقہ کر دہ ۔ " وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! مدینے کی دونوں پتھریلی زمینوں کے مابین ہم سے زیادہ اور کوئی فقیر نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے اگلے دانت دکھائی دینے لگے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " گھر والوں ہی کو کھلا دو ۔ " ¤ مسدد نے اپنی روایت میں کہا کہ آپ کے نوکیلے دانت نظر آنے لگے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت