فهرس الكتاب

الصفحة 2391 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: جو شخص رمضان میں بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اس کا کفارہ؟

2391 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ... بِمَعْنَاهُ. زَادَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لَهُ خَاصَّةً، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى مَعْنَى ابْنِ عُيَيْنَةَ زَادَ فِيهِ الْأَوْزَاعِيُّ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ.

جناب زہری نے یہ حدیث اسی مذکورہ معنی میں بیان کی اور مزید کہا کہ یہ اسی آدمی کے لیے رخصت تھی آج اگر کوئی یہ کام کر بیٹھے تو کفارے سے چارہ نہیں ۔ ¤ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اس روایت کو لیث بن سعد ، اوزاعی ، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے سفیان بن عیینہ کی مانند بیان کیا ۔ اوزاعی نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا: " اور اللہ سے استغفار بھی کر ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت