2646 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَزَلَتْ {إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ} [الأنفال: 65] ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ، فَقَالَ: {الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ...} [الأنفال: 66] ، قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ: {يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ} [الأنفال: 66] ، قَالَ: فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ، نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ .
سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» " اگر تم میں بیس ہوئے صبر کرنے والے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے ۔ " تو مسلمانوں کو یہ امر بڑا بھاری محسوس ہوا کہ اللہ نے فرض کر دیا ہے کہ ایک آدمی دس کے مقابلے سے نہ بھاگے ۔ پھر ( یہ ) تخفیف نازل ہوئی «الآن خفف الله عنكم» " اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی اور اس نے جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری ہے ، سو اگر تم میں سو افراد ہوئے صابر و ثابت قدم تو وہ دو سو پر غالب ہوں گے ۔ " ابوتوبہ ربیع ( راوی حدیث ) نے یہ آیت کریمہ «يغلبوا مائتين» تک پڑھی ۔ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے گنتی میں تخفیف فر دی تو اس اعتبار سے صبر میں بھی کمی کر دی ۔
اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہو تو گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ جم کر مقابلہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کی خاص مد د شامل حال ہوگی۔