فهرس الكتاب

الصفحة 2646 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: کفار سے مقابلے میں بھاگ جانے کا مسئلہ

2646 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَزَلَتْ {إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ} [الأنفال: 65] ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ، فَقَالَ: {الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ...} [الأنفال: 66] ، قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ: {يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ} [الأنفال: 66] ، قَالَ: فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ، نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ .

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» " اگر تم میں بیس ہوئے صبر کرنے والے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے ۔ " تو مسلمانوں کو یہ امر بڑا بھاری محسوس ہوا کہ اللہ نے فرض کر دیا ہے کہ ایک آدمی دس کے مقابلے سے نہ بھاگے ۔ پھر ( یہ ) تخفیف نازل ہوئی «الآن خفف الله عنكم» " اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی اور اس نے جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری ہے ، سو اگر تم میں سو افراد ہوئے صابر و ثابت قدم تو وہ دو سو پر غالب ہوں گے ۔ " ابوتوبہ ربیع ( راوی حدیث ) نے یہ آیت کریمہ «يغلبوا مائتين» تک پڑھی ۔ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے گنتی میں تخفیف فر دی تو اس اعتبار سے صبر میں بھی کمی کر دی ۔

اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہو تو گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ جم کر مقابلہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کی خاص مد د شامل حال ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت