فهرس الكتاب

الصفحة 1639 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: کس صورت میں سوال کرنا جائز ہے ؟

1639 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا

سیدنا سمرہ ؓ ، نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " سوال کرنا اپنے آپ کو نوچنا ہے ، اس سے انسان اپنا چہرہ چھیلتا اور نوچتا ہے ۔ چنانچہ جو چاہے اپنے چہرے کی آبرو باقی رکھے اور جو چاہے ضائع کر دے ، تاہم اگر کوئی حکمران سے سوال کرے یا بہت ہی لاچار ہو جائے ، تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت