فهرس الكتاب

الصفحة 3166 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: نماز جنازہ میں صف بندی کا بیان

3166 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدٍ الْيَزَنِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَوْجَبَ قَالَ فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِلْحَدِيثِ

سیدنا مالک بن ہبیرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور پھر اس پر مسلمانوں کی تین صفیں جنازہ پڑھیں تو اللہ اس کے لیے ( جنت ) لازم کر دیتا ہے ۔ " بیان کیا کہ سیدنا مالک ؓ جب کسی جنازہ میں لوگوں کی تعداد کم پاتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔

اس حدیث سے امام شوکانی وٖغیرہ نے نماز جنازہ میں تین صفوں کی فضیلت کا اثبات ہے۔ (نیل لاوطار۔63/4) لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔تاہم بعض افراد نے مالک بن ہبیرہ کے اثر کو حسن قرار دے کر اس مسئلے کا اثبات کیا ہے۔تاہم دیگر روایات سے ثابت ہے۔کہ میت کے جنازے میں شریک ہونے والوں کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔بشرط یہ کہ وہ صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔محض نام کے رواجی مسلمان ہوں۔نہ شرک وبدعت کا ارتکاب کرنے والے ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت