فهرس الكتاب

الصفحة 232 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: جنبی کامسجد میں داخل ہونا

232 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ.

قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ( دیکھا کہ ) بعض اصحاب کے گھروں کے دروازے مسجد کی جانب کھلتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا " ان گھروں ( کے دروازوں ) کو مسجد کے رخ سے پھیر دو ۔" آپ ﷺ دوبارہ تشریف لائے اور ان لوگوں نے کوئی تبدیلی نہ کی تھی ، اس بنا پر کہ شاید کوئی رخصت نازل ہو جائے ۔ تو آپ ﷺ ان کی طرف نکلے اور فرمایا " ان گھروں کے رخ مسجد کی جانب سے پھیر لو ۔" بیشک میں مسجد کو حائضہ عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کرتا ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ راوی حدیث ( افلت بن خلیفہ کا دوسرا نام ) فلیت عامری ( بھی ) ہے ۔

یہ حدیث باعتبارسندضعیف ہے۔قرآن مجیدمیں اس طرح آیاہےکہ جنبی مسجدمیں سےراستہ پارکرتےگزرسکتاہےٹھہرنہیں سکتااویہی حکم حائضہ اورنفاس والی عورت کاہے'' (یایھاالذینآمنوالاتقربواالصلاۃ وانتم سکاریٰ حتیٰ تعلمواماتقولون ولاجنباالاعابری سبیل تغسلوا) (النساء:43) ''اےایمان والو!جب تم شراب کی مدہوشی میں ہوتونمازکےقریب مت جاؤ حتیٰ کہ (تمہیں ہوش آجائےاور) جاننےبوجھنےلگوجوتم کہتےہواورنمازکےقریب نہ جاؤجبکہ تم حالت جنابت میں ہوحتی کہ غسل کرلو'ہاں مسجدمیں سےگزرسکتےہو۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت