232 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ.
قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ( دیکھا کہ ) بعض اصحاب کے گھروں کے دروازے مسجد کی جانب کھلتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا " ان گھروں ( کے دروازوں ) کو مسجد کے رخ سے پھیر دو ۔" آپ ﷺ دوبارہ تشریف لائے اور ان لوگوں نے کوئی تبدیلی نہ کی تھی ، اس بنا پر کہ شاید کوئی رخصت نازل ہو جائے ۔ تو آپ ﷺ ان کی طرف نکلے اور فرمایا " ان گھروں کے رخ مسجد کی جانب سے پھیر لو ۔" بیشک میں مسجد کو حائضہ عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کرتا ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ راوی حدیث ( افلت بن خلیفہ کا دوسرا نام ) فلیت عامری ( بھی ) ہے ۔
یہ حدیث باعتبارسندضعیف ہے۔قرآن مجیدمیں اس طرح آیاہےکہ جنبی مسجدمیں سےراستہ پارکرتےگزرسکتاہےٹھہرنہیں سکتااویہی حکم حائضہ اورنفاس والی عورت کاہے'' (یایھاالذینآمنوالاتقربواالصلاۃ وانتم سکاریٰ حتیٰ تعلمواماتقولون ولاجنباالاعابری سبیل تغسلوا) (النساء:43) ''اےایمان والو!جب تم شراب کی مدہوشی میں ہوتونمازکےقریب مت جاؤ حتیٰ کہ (تمہیں ہوش آجائےاور) جاننےبوجھنےلگوجوتم کہتےہواورنمازکےقریب نہ جاؤجبکہ تم حالت جنابت میں ہوحتی کہ غسل کرلو'ہاں مسجدمیں سےگزرسکتےہو۔''