5187 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنِ أَبِيهِ فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا قَالَ أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهُ
سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کے ہاں حاضر ہوا تو میں نے دروازے پر دستک دی ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " کون ہے ؟ " میں نے جواب میں کہا: میں ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " میں ہوں ، میں ہوں ۔ " گویا آپ ﷺ نے اس انداز کو ناپسند فرمایا ۔
1۔دروازہ کھٹکھٹانا بھی اجازت طلب کرنے کے معنٰی میں ہے اور صحیح ہے اور پھر کسی کے سامنے آنے پر السلام علیکم کہے۔
2۔دستک کے جواب میں دستک دینے والے آدمی کو اپنا نام یا عرف بتانا چاہیے''میں میں'' کہنا خلاف ادب ہے اور ناکافی تعارف ہے۔