فهرس الكتاب

الصفحة 3388 من 5274

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

باب: مال لگائے بغیر شراکت کرنا

3388 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ وَسَعْدٌ فِيمَا نُصِيبُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بدر کی جنگ والے دن میں ' سیدنا عمار اور سعد ؓ نے آپس میں طے کیا کہ جو بھی ہمیں ملے گا ہم تینوں اس میں شریک ہوں گے ۔ چنانچہ سیدنا سعد ؓ تو دو قیدی لے آئے مگر میں اور سیدنا عمار ؓ کچھ نہ لا سکے ۔

دو تین یا زیادہ محنت کش افراد آپس میں یہ معاہدہ کرلیں کہ جو ہم کمائیں گے وہ ہم میں مشترک ہوگا۔اسے شرکۃ الایمان کہتے ہیں۔امام مالک۔سفیان ثوری۔اور احناف اس کے قائل ہیں۔جبکہ امام احمد کا بھی ایک قول اس کے جواز کاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت