357 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ قَالَتْ تَغْسِلُهُ فَإِنْ لَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ قَالَتْ وَلَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا
معاذہ ؓا کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے پوچھا کہ حائضہ کے کپڑوں کو خون لگ جاتا ہے ( تو کیا کرے ؟ ) انھوں نے کہا کہ اسے دھوئے ۔ اگر اس کا نشان باقی رہے تو کچھ زردی ( ورس بوٹی یا زعفران ) سے اسے تبدیل کر دے ۔ کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے ہاں تین تین حیض آتے تھے ، مگر میں اپنا کوئی کپڑا نہ دھوتی تھی ۔
: وہ اس لیے نہ دھوتی تھیں کہ تہ بند یاچادر کسی طرح آلودہ نہ ہوتی ہوگی۔معلوم ہو ا کہ اگرگپڑا کسی طرح آلودہ نہ ہوتو وہ پاک ہے۔نیز حائضہ کا پسینہ اور لعاب پاک ہے۔اس طرح باقی کپڑوں کےدھونے کی ویسے ہی ضرورت نہیں ۔