فهرس الكتاب

الصفحة 3933 من 5274

کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل

باب: جس نے( مشترک )غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہو

3933 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ

جناب ابوملیح ( ابوملیح عامر ) اپنے والد ( اسامہ بن عمیر ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا ۔ پھر یہ بات نبی کریم ﷺ کو بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا " اﷲ کا کوئی شریک نہیں ۔ " ابن کثیر نے اپنی روایت میں مزید کہا: پھر نبی کریم ﷺ نے اس کی آزادی کو درست قرار دیا ۔

جزوی طور پر آزاد کیے گئےغلام کوکامل آزادی دینے کی صورت نکالنی ضروری ہےجیسے کہ درج ذیل احادیث میں آرہا ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت