فهرس الكتاب

الصفحة 4376 من 5274

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان

باب: حدود کا مقدمہ اگر قاضی یا حاکم تک نہ پہنچا ہو تو معاف کیا جا سکتا ہے

4376 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَافُّوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " حدود کے معاملات کو آپس ہی میں ایک دوسرے کو معاف کر دیا کرو لیکن جو مقدمہ حد مجھ تک پہنچ گیا تو پھر اس کی تنفیذ واجب ہے ۔ "

۔ یہ روایت سندا ضعیف ہے' تاہم یہ حدیث معنوی شواہد کی بناپر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق میں اس بات کااظہار کیاہے۔دیکھیے حدیث ھٰذا کی تخریج وتحقیق۔

2۔ قاضی اور حاکم کو قطعاروانہیں کہحدودشرعیہ کی تنفیذ میں ٹال مٹول سے کام لے۔

3۔ خود مجرم یااس کو دیکھنےوالےگواہوںپرواجبنہیں کہیہمعاملہ قاضی تک پہنچائیں ۔اگر معاملہ قابلستراورقابل معافی ہوتواس اعتماد پرکہمرتکب جرم آئندہ محتاط رہے گا'اس سےدرگزر کیا جاسکتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت