2176 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا, لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ, فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا.
سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " کوئی عورت اپنی ( دینی ) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ اس طرح اس کا پیالہ ( اپنی خاطر ) خالی کرا لے ۔ اسے چاہیئے کہ نکاح کر لے ، اس کو وہی کچھ ملے گا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے ۔ "
یعنی کسی مسلمان بہن کو طلاق دلوانا بہت بری بات ہے بلکہ چاہیے کہ رضا بالقضاء کا مظاہرہ کرے۔اس کو طلاق دلواکریہ نہ اپنے لیے کچھ اضافہ کرسکتی ہے ادر نہ اسکا کچہ نقصان کر سکتی ہے. لہذا اگر اسی مرد کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے اس سے نکاح کرلے۔