فهرس الكتاب

الصفحة 3104 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا

3104 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّ أَبَاهَا قَالَ اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ

سیدہ عائشہ دختر سعد ابی وقاص ؓا سے مروی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ بیمار پرسی کے لیے میرے ہاں تشریف لائے ' آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک میری پیشانی پر رکھا ' پھر میرے سینے اور پیٹ پر پھیرا اور فرمایا " اے اللہ ! سعد کو شفاء عنایت فر اور اس کی ہجرت مکمل فر دے ۔ "

عیادت میں چاہیے کہ مریض کی پوری طرح دلجوئی کی جائے۔اور بالخصوص اللہ تعالیٰ سے دعا ہو کہ اسے شفا ملے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت