فهرس الكتاب

الصفحة 3596 من 5274

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل

باب: گواہیوں کا بیان

3596 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ وأَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَيَّتَهُمَا قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ مَالِكٌ الَّذِي يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ وَلَا يَعْلَمُ بِهَا الَّذِي هِيَ لَهُ قَالَ الْهَمَدَانِيُّ وَيَرْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ أَوْ يَأْتِي بِهَا الْإِمَامَ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ الْهَمَدَانِيِّ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ لَمْ يَقُلْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ

سیدنا زید بن خالد جہنی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " کیا میں تمہیں بہترین گواہ نہ بتاؤں ؟ وہ جو طلب کرنے سے پہلے از خود اپنی گواہی پیش کر دے ۔ " عبداللہ بن ابی بکر کو الفاظ حدیث میں شک ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ امام مالک ؓ نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ صاحب حق کو علم نہ ہو کہ اس کا گواہ کون ہے ۔ ہمدانی نے کہا: وہ ( از خود ) اپنے آپ کو سلطان کے روبرو پیش کر دے ۔ ابن السرح نے کہا: یا امام ( حاکم ) کے سامنے پیش کر دے ۔ ہمدانی کی روایت میں «أخبرنا» ہے ۔ ابن السرح نے ( راوی کا نام ) ابن ابی عمرہ ذکر کیا ہے ' عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ) نہیں ذکر کیا ۔

توضیح۔صحیح بخاری ومسلم کی روایت میں آیا ہے۔کہ (قرب قیامت میں ) ایسے لوگ ہوں گے جوگواہیاں دیں گے۔حالانکہ ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی۔وہ قسمیں کھایئں گے حالانکہ ان سے قسمیں طلب نہ کی جایئں گی۔ (صحیح البخاری الشھادات۔حدیث 2652۔وصحیح مسلم فضائل صحابہ حدیث 2535) تو اس میں ان لوگوں کی مذمت ہے۔جو جھوٹے ہوں۔کسی کا حق مارنے یا کسی دوسرے کو فائدہ پہنچانے کےلئے یہ قسمیں کھایئں گے۔ اور آگے بڑھ بڑھ کرگواہیاں دیں گے۔ جبکہ زیر بحث حدیث میں صادق اور امین لوگوں کومدح ہے۔جو مجبور اور سادہ لوگوں کی مددکریں۔یا حاکم اورقاضی کےلئے حق وانصاف میں معاون بنیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا تعلق اس امانت اور عاریت سے جوکسی یتیم کی ہو۔اور سوائے اس گواہ کے کسی اور کے علم میں نہ ہو۔ اور وہ از خودحاکم کے پاس جا کر حقدار کا حق دلوادے تو یقینا وہ بہترین گواہ ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت