2353 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا، مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ, لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ.
سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ تاخیر سے افطار کرتے ہیں ۔ "
(1) اس فرمان میں افطار کے لیے کھانے پینے کی حرص کا بیان نہیں بلکہ یہ ترغیب و تشویق ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل میں سبقت کی جائے۔ اور یہی بات دین کے غالب ہونے کی علامت ہے کہ مخالفین اسلام اور دین بیزار لوگوں کے مقابلے میں دین کے چھوٹے بڑے تمام احکام پر مِن و عَن عمل کر کے اپنے آپ کو نمایاں رکھا جائے۔ (2) افطار اور نماز مغرب میں تاخیر کرنا اور خوامخواہ وہم میں مبتلا ہونا کہ سورج شاید ابھی غروب نہیں ہوا، ابھی غروب نہیں ہوا، مکروہ ہے۔