فهرس الكتاب

الصفحة 3573 من 5274

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل

باب: قاضی جو خطا کرے

3573 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ

جناب ( عبداللہ بن بریدہ ) بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک جنت میں ہے اور دو آگ میں ۔ جنت میں جانے والا وہ ہے جس نے حق پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا ' اور جس نے حق پہچانا اور پھر فیصلے میں ظلم کیا تو وہ آگ میں ہے ' اور جس نے جاہل ہوتے ہوئے لوگوں کے فیصلے کیے وہ بھی آگ میں ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس موضوع میں یہ حدیث صحیح ترین ہے ۔ یعنی ابن بریدہ کی حدیث کہ قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ۔

فائدہ۔ جانتے بوجھتے حق کے خلاف فیصلہ دینا اور جاہل ہوتے ہوئے لوگوں میں فیصلے کرنے بیٹھ جانا دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو جہنم میں جھونکنا ہے۔لہذا واجب ہے کہ یہ منصب اصحاب علم اور اصحاب عزیمت ہی کے سپرد کیا جائے اور وہ بھی جراءت سے کام لیں اور جنت کے حقدار بنیں جبکہ ان لوگوں کے پس منظرمیں رہنے سے ظالم ظلم کرتے ہیں۔اور جہالت کا غلبہ اور اس کی اشاعت ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت