فهرس الكتاب

الصفحة 5171 من 5274

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل

باب: کسی کے گھر یا خاص مجلس میں اجازت لے کر جانے کا بیان

5171 َدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ, أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ.

سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے کسی گھر میں جھانکا ۔ تو رسول اللہ ﷺ ایک لمبے پھل کا نیزہ لیے ہوئے اس کی جانب اٹھے ۔ سیدنا انس ؓ کہتے ہیں: گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ یہ نیزہ اسے مارنے کے لیے لہرا رہے تھے

سی کے گھر میں بغیر اجازت کے جھانکنا حرام اور انتہائی بد اخلاقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کے دروازے پر دستک دے تو اس کا ادب یہ ہے کہ ایک جانب کھڑا ہوجیسے کہ اگلی حدیث 5174 میں آرہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت