فهرس الكتاب

الصفحة 5209 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: " علیک السلام " کہنا مکروہ ہے

5209 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ أَبِي غِفَارٍ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ أَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى

سیدنا ابوجری ھجیمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں نے کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ ﷺ نے فرمایا یہ لفظ «عليك السلام» مت بولو ، یہ مردوں کا سلام ہے ۔

سلام کی ابتدا کرنے والا (اسلام وعلیکم یا اسلام علیک) کہے اور جواب دینے والا (وعلیکم اسلام یا وعلیک اسلام ) کہے ،یعنی اس میں حرف وا و کا اضافہ ہو ۔ صرف علیک اسلام ابتدا کرنے میں یا جواب دینے میں کسی طرح صحیح نہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت