فهرس الكتاب

الصفحة 2433 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: شوال میں چھ روزے رکھنے کی فضیلت

2433 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ وَ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ -صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ, فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ.

نبی کریم ﷺ کے صحابی سیدنا ابوایوب ؓ ، نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " جس نے رمضان کے روزے رکھے ، پھر اس کے بعد شوال میں چھ روزے رکھے تو اس نے گویا زمانہ بھر روزے رکھے ۔ "

(1) اس حدیث میں شش عیدی روزوں کی فضیلت و استحباب کا بیان ہے۔ اور جائز ہے کہ یہ عید کے بعد فورا مسلسل رکھ لیے جائیں یا اس مہینے میں متفق طور پر رکھے جائیں۔ (2) زمانہ بھر یعنی سال بھر کے روزون کا ثواب اس طرح واضح کیا جاتا ہے کہ حسب قاعدہ (مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ‌ أَمْثَالِهَا) (الانعام:160) رمضان کے تیس اور شوال کے چھ دن کل چھتیس دن ہوئے اور دس گنا ثواب سے تین سو ساٹھ ہو گئے اور تقریبا یہی تعداد سال کے دنوں کی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت