فهرس الكتاب

الصفحة 2386 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: روزہ دار لعاب نگل جائے

2386 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَيَمُصُّ لِسَانَهَا. قَالَ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ: هَذَا الْإِسْنَادُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کا بوسہ لے لیتے جبکہ وہ روزے سے ہوتے اور ان کی زبان چوستے ۔ ¤ ابن الاعرابی کہتے ہیں کہ مجھے امام ابوداؤد ؓ سے یہ بات پہنچی ہے کہ یہ سند صحیح نہیں ہے ۔

یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے اس میں بیان کردہ بات (زبان کا چوسنا) صحیح نہیں ہے۔ البتہ روزے کی حالت میں بوسہ لینا ثابت ہے۔ روزہ دار اگر کسی غیر کا لعاب چوسے اور نگل لے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت