3675 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ أَهْرِقْهَا قَالَ أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا قَالَ لَا
سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوطلحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یتیموں کو ورثے میں شراب ملی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " اسے بہا دو ( اور ضائع کر دو ) ۔ " انہوں نے کہا: کیا میں اس سے سرکہ نہ بنا لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " نہیں ۔ "
فائدہ۔شراب اس غرض سے رکھ کرچھوڑنا کہ سرکہ بن جائے۔حرام ہے۔البتہ کہیں سے سرکہ بنا بنایا مل جائے تو الگ بات ہے اور وہ جائز ہے۔کیونکہ اسے وہ سرکہ ہی کی شکل میں ملی ہے۔