فهرس الكتاب

الصفحة 3675 من 5274

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

باب: شراب کو سرکہ بنا لینا

3675 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ أَهْرِقْهَا قَالَ أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا قَالَ لَا

سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوطلحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یتیموں کو ورثے میں شراب ملی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " اسے بہا دو ( اور ضائع کر دو ) ۔ " انہوں نے کہا: کیا میں اس سے سرکہ نہ بنا لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " نہیں ۔ "

فائدہ۔شراب اس غرض سے رکھ کرچھوڑنا کہ سرکہ بن جائے۔حرام ہے۔البتہ کہیں سے سرکہ بنا بنایا مل جائے تو الگ بات ہے اور وہ جائز ہے۔کیونکہ اسے وہ سرکہ ہی کی شکل میں ملی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت