فهرس الكتاب

الصفحة 3890 من 5274

کتاب: علاج کے احکام و مسائل

باب: دم کیسے کیا جائے ؟

3890 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ بَلَى قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

سیدنا انس ؓ نے جناب ثابت بنانی سے کہا کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا ( سکھایا ہوا ) دم نہ کروں ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ۔ تو انہوں نے کہا: «اللهم رب الناس ، مذهب الباس ، اشف أنت الشافي ، لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما» " اے اللہ ! لوگوں کے پالنے والے ! دکھوں کے دور کرنے والے ! شفاء عنایت فر ' تو ہی شافی ہے ، ' تیرے سوا کوئی شفاء نہیں دے سکتا ' اسے شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری نہ رہنے دے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت