448 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى
۔ سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ مساجد کو بہت زیادہ پختہ تعمیر کروں ۔ " سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا تم انہیں ضرور مزین کرو گے جیسے کہ یہود و نصاریٰ نے ( اپنے عبادت خانے ) مزین کیے ۔
(1) یہ روایت سندا ضعیف ہے ، تاہم اس میں جوبات کہی گئی ہے، وہ صحیح ہےکیونکہ وہ دیگر احادیث سےثابت ہے۔ غالبا انہی شواہد کی بنا پر شیخ البانی نےاسے صحیح کہاہے۔
(2) اللہ کی حکمت کہ ہمیں ایسے حالات کاسامنا ہےکہ اس بدعت کو اپنی کھلی آنکھوں سےدیکھ رہے ہیں اور بعض مساجد کواس حدتک بلند وبالا اورمزین کیاجاتا ہو اور کچھ لوگ توان کی زیارت ہی بطور سیاح کےکرتےہیں۔ ( لاحول ولا قوۃ الا باللہ) تاہم واقعی شرعی ضرورت کے تحت مسجد کومضبوط بنانا ، وسیع کرنااورموسم کی مناسبت سےنمازیوں کےلیے ضروری سہولتوں کامہیا رکرنا یقینا مباح ہےاور جگہ کی تنگی کےباعث اسے اونچا کرناشرعا مطلوب ہے۔سورہ نور میں ارشاد الہی ہے: (فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ) نور:36) '' ان گھروں میں جنھیں بلند کیے جانے اور وہاں اللہ تعالی کانام لیے جانے کااللہ نےحکم دیا ہے ان میں صبح وشام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔،، مگر ایسی تمام تعمیری زینتوں سےبچنا ضروری ہےجونماز کواللہ کےذکر اورعبادت سےپھیر دینے والی ہوں۔