فهرس الكتاب

الصفحة 813 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: ان حضرات کی دلیل جو مغرب میں تخفیف کے قائل ہیں

813 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ وَالْعَادِيَاتِ وَنَحْوِهَا مِنْ السُّوَرِ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا أَصَحُّ

جناب ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہان کے والد ( عروہ بن زبیر ) مغرب میں اسی طرح کی سورتیں پڑھتے تھے جیسی تم لوگ پڑھتے ہو یعنی «والعاديات» وغیرہ ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا یہ دلیل ہے کہ مغرب میں تطویل قرآت منسوخ ہے ۔ اور امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ یہی زیادہ صحیح ہے ۔

امام ابو دائود نے اسی اختصار قراءت کو راحج قراردیا ہے۔ورنہ دیگرصحیح روایات سے اس کا نسخ ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں توسع ہے۔اور یہ آخری روایت تابعی کا عمل ہے۔ (عون المعبود) اور نبی کریم ﷺ کی آخری قرائت مغرب میں (والمرسلات عرفًا) تھی۔جیسا کہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت گزری ہے۔ (حدیث ۔810)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت