فهرس الكتاب

الصفحة 2194 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: ہنسی مزاح میں طلاق دینا

2194 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ مَاهَكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " تین باتیں ایسی ہیں اگر کوئی ان کو حقیقت اور سنجیدگی میں کہے ، تو حقیقت ہیں اور ہنسی مزاح میں کہے ، تو بھی حقیقت ہیں ۔ نکاح ، طلاق اور ( طلاق سے ) رجوع ۔ "

سورۃالبقرہ میں ہے: (واذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف اوسرحوهن بمعروف ولا تمسكوهن ضرارالتعتدوا ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه ولا تتخذوا آيت الله هزوًا) البقره;231) جب تم عورتوں کو طلاق دواور وہ اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تواب انہیں اچھی طرح بسالویا بھلائی کے ساتھ الگ کردو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم اور زیادتی کے لیے نہ روکو ۔اور جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ۔۔۔۔۔۔۔ قرآن مجید کی اس آیت میں طلاق کی بابت بعض اہم ہدایات دینے کے ساتھ آخر میں احکام الہی کو استہزاء ومذاق بنانے سے منع فرمایا گیا ہے۔انہی احکام میں نکاح و طلاق وعتاق بھی ہیں۔ان کی بابت حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ کام اگر مذاق میں بھی کئے جائیں گے تو واقعتًا ان کا انعقاد ہوجائے گا۔اس سے یہ معلو م ہوتا ہے کہ ڈراموں ادر فلموں میں فرضی طور پر میاں بیوی کا کردار ادا کرنا کیوں کر صحیح ہوگا؟ کیونکہ اس طرح اندیشہ ہے کہ وہ دونوں اللہ کے ہاں میاں بیوی ہی مقصود ہوں جب کہ وہ ایسا سمجھتے ہوں نہ اس کے مطابق باہم معاملہ ہی کرتے ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت