184 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ فَقَالَ: >تَوَضَّئُوا مِنْهَالَا تَوَضَّئُوا مِنْهَالَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ, فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِصَلُّوا فِيهَا, فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ.
سیدنا براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: آیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو لازم آتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " اس سے وضو کیا کرو ۔ " سوال کیا گیا کہ بکری کے گوشت سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " اس سے وضو نہ کرو ۔ " اور سوال ہوا کہ کیا اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھیں ؟ فرمایا " اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھا کرو ۔ بیشک یہ شیطانوں میں سے ہیں ۔ " اور پوچھا گیا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز ( پڑھیں یا نہ ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا " اس میں نماز پڑھ لیا کرو ۔ بیشک یہ مبارک ہیں ۔ "
اونٹ حلال جانورہےمگراس کاگوشت کھانےسےوضوکرنارسول اللہﷺکافرمان مقدس ہے۔اس میں کیا حکمت یا علت ہے؟اللہ تعالی ہی بہترجانتاہے۔ہمارےلیےتواللہ عزوجل کاارشادہے: ( ومااتکم الرسول فخذوہ ومانہکم عنہ فانتھوا ) (الحشرآیت:7) ''رسول جوتمہیں دےوہ لےلواورجس سےروک دےاس سے رک جاؤ۔''
2۔ بکریاں پالناباعث برکت ہے۔