فهرس الكتاب

الصفحة 302 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: ان حضرات کی دلیل جو کہتے ہیں کہ(مستحاضہ)ہر روز ایک بار غسل کرے...

302 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَعْقِلٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّهُ عَنْه قَالَ: الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا انْقَضَى حَيْضُهَا، اغْتَسَلَتْ كُلَّ يَوْمٍ، وَاتَّخَذَتْ صُوفَةً فِيهَا سَمْنٌ أَوْ زَيْتٌ.

سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ مستحاضہ کا حیض جب ختم ہو جائے تو وہ ہر روز غسل کیا کرے اور تھوڑی سی اون گھی یا زیتون کے تیل میں تر کر کے حمول کر لیا کرے ۔ ( یعنی فرج میں رکھ لیا کرے ) ۔

بعض علماء اس کے قائل ہیں: اور یہ حضرت علی کا قول ہے مگر مرفوع حدیث نہیں ہے او روہ بھی سندًا ضعیف ہے۔ اور ظاہر کہ یہ صورت واجب نہیں بطور نظافت مستحب و مندوب ہے اور علامہ منذری نے اسے ''غریب'' کہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت