فهرس الكتاب

الصفحة 1677 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: سارا مال صدقہ کر دینے کی رخصت

1677 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے ، انہوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " کم مال والے کا محنت مشقت کر کے دینا اور شروع ان سے کرو جن کی کفالت کے تم ذمہ دار ہو ۔ "

جو شخص کفاف کی حالت میں ہو کہ تازہ مذدوری کرکے لائے اور پھر اسی میں سے صدقہ بھی کرے۔ تو یہ اس کے اللہ والا ہونے کی عظیم دلیل ہے۔ ایسا شخص یقینًا کامل متوکل علی اللہ اور جنت کا حریص ہے۔ ایسا صدقہ اپنی ظاہری برکات بھی لاتا ہے۔ مگرساتھ ہی اس میں یہ تعلیم بھی ہے۔ کہ اپنے زیر کفالت افراد سے شروع کیاجائے۔ان پرخرچ کرنے کا دہرا ثواب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت