فهرس الكتاب

الصفحة 1676 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: اگر کوئی اپنا سارا ہی مال صدقہ کرنا چاہے ؟

1676 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى أَوْ تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا ( لوگوں سے بے نیازی ) کو باقی رہنے دے یا یہ کہ اس کیفیت میں صدقہ کیا جائے کہ خود محتاج اور ضرورت مند نہ ہو ( بلکہ غنی ہو ) اور ان سے شروع کرو جن کی کفالت کے تم ذمہ دار ہو ۔ "

مطلب یہ ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد اگر انسان خود ہی اپنی بنیادی ضروریات کے پورا کرنے کےلئے دوسروں کا محتاج ہوجائے تو ایسا صدقہ ناپسندیدہ ہے۔ اس لئے بہترین صدقہ اسے قرار دیا گیا ہے کہ وہ دینے کے بعد انسان دوسروں کا محتاج نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت