فهرس الكتاب

الصفحة 3119 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: کسی بھی مصیبت کے وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھنے کا بیان

3119 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَآجِرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْ لِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت آ پڑے تو چاہیئے کہ یوں کہے «إنا لله وإنا إليه راجعون ، اللهم عندك أحتسب مصيبتي ، فآجرني فيها ، وأبدل لي خيرا منها» " ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جانے والے ہیں ۔ اے اللہ ! اس مصیبت میں ' میں تجھ سے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں ' مجھے اس میں اجر عنایت فر اور اس ( مفقود ) کے بدلے مجھے اس سے بڑھ کر بہتر بدل عنایت فر ۔ "

کسی بھی قسم کے چھوٹے بڑے نقصان یا کسی عزیز کے فوت ہوجانے پریہ دعا پڑھنا مسنون ہے ۔اور امید رکھنی چاہیے کہ اللہ عزوجل بہترصورت میں اس کا بدل عنایت فرمائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت