فهرس الكتاب

الصفحة 1134 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: نماز عیدین کے احکام و مسائل

1134 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ: مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟، قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا, يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ.

سیدنا ابن عمر ؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے ۔ منبر پر آنے کے بعد بیٹھ جاتے ، حتی کہ مؤذن فارغ ہو جاتا ۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے ۔ پھر بیٹھ جاتے اور کلام نہ کرتے ۔ پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے ۔

اسلام نے جاہلیت کے تمام شعائر کو حق کے ساتھ بدل دیا ہے۔ تو مسلمان کو اسی حق کے ساتھ تمسک کرنا چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرعی عیدوں کی تعداد صرف دو ہے باقی سب خودساختہ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت