فهرس الكتاب

الصفحة 2170 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: عزل کا بیان

2170 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -يَعْنِي: الْعَزْلَ-، قَالَ: >فَلِمَ يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ؟ -وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ أَحَدُكُمْ!-, فَإِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ, إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا. قَالَ أَبو دَاود: قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ.

سیدناابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اس کا ذکر آیا یعنی عزل کا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا " تم میں سے کوئی یہ کرتا ہی کیوں ہے ؟ " آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا " تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کرے ۔ " بلاشبہ جو جان پیدا ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ اسے پیدا کر کے رہے گا ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ راوی حدیث قزعہ یہ زیاد کا مولیٰ ہے ۔

مباشرت کرتے وقت مرد اپنی منی عورت کی فرج میں نکالنے کی بجائے باہر نکالےاسے عزل کہتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت