فهرس الكتاب

الصفحة 2155 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: جنگ میں قید ہونے والی عورتوں سے مباشرت کا مسئلہ

2155 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ، فَقَاتَلُوهُمْ، فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ، وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ, مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِك:َ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24] أَيْ: فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ.

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے موقع پر اوطاس کی طرف ایک مہم بھیجی ، وہ اپنے دشمن سے مقابل ہوئے ، ان سے جنگ کی ، ان پر غالب رہے اور ان کی عورتیں ہاتھ آئیں تو کچھ اصحاب رسول ﷺ نے ان سے مباشرت میں حرج جانا کیونکہ مشرکین میں ان کے شوہر موجود تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں یہ آیت اتاری «والمحصنات من النساء إلا ملكت أيمانكم» " اور خاوندوں والیاں ( تم پر حرام ہیں ) مگر جن کے مالک بن جائیں تمہارے داہنے ہاتھ ۔ " یعنی وہ تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہو جائے ۔

جنگی قیدی بن جانے کے بعد میاں بیوی میں جدائی پیدا ہو جاتی ہے خواہ دونوں میں سے کوئی ایک پکڑا جائے یا دونوں ۔ اس لئے عورت سے استمتاع جائز ہے اور اس کی عدت ایک حیض ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت