فهرس الكتاب

الصفحة 2364 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: روزے دار کا مسواک کرنا

2364 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ح، وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ. زَادَ مُسَدَّدٌ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي.

جناب عبیداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد ( عامر بن ربیعہ ) سے روایت کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسواک کرتے ہوئے دیکھا ، حالانکہ آپ ﷺ روزے سے تھے ۔ مسدد نے مزید یوں کہا: میں نے آپ ﷺ کو بےشمار دفعہ ( مسواک کرتے ) دیکھا ۔

(1) روزہ رکھ کر مسواک کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ مسواک خواہ تازہ ہو یا خشک، ہر طرح سے جائز ہے۔ اور ظاہر ہے کہ تازہ مسواک کی رطوبت کو تھوکنا لازمی ہو گا جب کہ اس کے ذائقے کا منہ میں باقی رہ جانا معاف ہے۔ جہاں تک ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کا سوال ہے، تع بعض علماء اسے روزے کی حالت میں مکروہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن ایسا سمجھنا صحیح نہیں ہے، اس کا حکم بھی مسواک سے مختلف نہیں ہے۔ اگر برش کے استعمال کے دوران میں، مسواک کرتے ہوئے یا وضو کرتے ہوئے دانتوں سے معمولی مقدار میں خون نکل آئے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے (باب سوال الرطب واليابس للصائم) کا عنوان قائم کر کے مندرجہ بالا روایت کو تعلیقا بیان فرمایا ہے۔ (2) دوسری حدیث جس میں ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی طیب ہوتی ہے۔ (صحيح البخاري' الصوم' حديث:1894' و صحيح مسلم' الصيام' حديث:1151) تو اس کا مفہوم منہ کو گندہ رکھنا نہیں بلکہ اس میں روزے دار کا اللہ کے ہاں محبوب ہونا بیان ہوا ہے اور یہ کہ اس کے معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں جو نامناسب سی بو پیدا ہو جاتی ہے، وہ بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔ اور ہر حال اور کیفیت میں منہ کو صاف ستھرا رکھنا مطلوب ہے اور روزہ دار ہر حال میں اللہ کا محبوب ہے۔ (3) اس حدیث کی اسنادی بحث کے لیے دیکھئے: ارواء الغلیل، حدیث: 68۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت