فهرس الكتاب

الصفحة 2363 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: روزہ دار ہو کر غیبت کرنا

2363 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >الصِّيَامُ جُنَّةٌ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا, فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ, فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو کسی قسم کی فحش بات یا جہالت کا کام نہ کرے ۔ اگر کوئی دوسرا اس سے جھگڑے یا گالی گلوچ دے تو اسے چاہیئے کہ کہہ دے میں روزے سے ہوں ، میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ "

(1) فحش گوئی اور اعمال جہالت سے مسلمان کو ہر حال میں بچنا چاہیے مگر روزہ دار کو ان سے پرہیز کی بہت زیادہ تاکید ہے۔ چنانچہ زبانی طور پر اپنے مقابل کو بتا دے کہ میں روزے سے ہوں اور غلط طرز عمل کو مزید بڑھنے بڑھانے سے باز رہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ یہ بات اپنے دل میں کہے اور اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ روزے سے ہے۔ لیکن یہ موقف ظاہر نص کے خلاف ہے۔ (2) اور روزے کی حالت میں اس ہدایت پر عمل کرنے ہی سے روزہ ڈھال ہو سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت