2002 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ ( حج کے بعد ) ہر جانب واپس چلے جاتے تھے ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا " کوئی شخص ہرگز نہ جائے حتیٰ کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو ۔ "
یہ حدیث طواف وداع (آخری الوداعی طواف) کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔الا یہ کہ کوئی خاتون حیض کے ایام میں ہو۔اور جو یہ چھوڑ دے اس پر دم (ایک جانور قربان کرنا) لازم آتا ہے۔