فهرس الكتاب

الصفحة 3955 من 5274

کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل

باب: مدبر غلام کی فروخت کا مسئلہ

3955 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِيعَ بِسَبْعِ مِائَةِ، أَوْ بِتِسْعِ مِائَةِ. حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ.

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ نے روایت کیا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کے بارے میں کہہ دیا کہ وہ اس کی وفات کے بعد آزاد ہو گا ' جب کہ اس کے پاس اس غلام کے سوا کوئی اور مال نہ تھا ' چنانچہ اس غلام کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو اسے سات سو یا نو سو میں فروخت کیا گیا ۔

غلام کے بارے میں یہ وصیت کرناکہ یہ میری وفات کے بعد آزاد ہوگا بالکل مباح اور جائز ہے۔ مگر وارثوں کے حالات کے پیش نظر اگر وہ بالکل ہی مفلوک الحال ہوں توایسی وصیت کو فسخ بھی کیا جاسکتا ہے۔ قاضی اور حاکیم کو اختیار ہے کہ وہ اس کو فسخ کردیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت