3954 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر ؓ کے دور میں ام ولد لونڈیوں کو فروخت کیا تھا ' پھر جب سیدنا عمر ؓ کا دور آیا تو انہوں نے ہمیں منع کر دیا ' تو ہم رک گئے ۔
ام ولد لونڈی کو بیچنا جائز ہے،یا نہیں؟ اس میں علماء کی دونوں ہی رائے ہیں۔ کچھ جواز کے قائل ہیں اور کچھ عدم جواز کے۔امام شوکانی کی رائے ہے کہ احتیاط کے طورپر اس کا عدم جوازہی راجح ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے (نیل الاوطار،کتاب العتق،باب ماجائ فی ام الولد) واللہ اعلم۔