فهرس الكتاب

الصفحة 3159 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: جنازہ لے جانے میں جلدی کرنا مستحب اور اسے روکے رکھنا مکروہ ہے

3159 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَى قَالَ أَبُو دَاوُد هُوَ ابْنُ يُونُسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ

حصین بن وحوح سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن براء ؓ بیمار ہو گئے تو نبی کریم ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا " میرا خیال ہے کہ طلحہ کی موت آ گئی ہے ۔ ( جب ان کی وفات ہو جائے ) تو مجھے اطلاع دینا اور جلدی کرنا ' مناسب نہیں کہ مسلمان کی میت اس کے گھر والوں کے پاس پڑی رہے ۔ "

روایت ضعیف ہے۔مگر دوسری صحیح احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے۔کہ جنازے کی تجہیزوتکفین میں جلدی کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت