فهرس الكتاب

الصفحة 538 من 5274

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

باب: تثویب کا مسئلہ

538 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، قَالَ: اخْرُجْ بِنَا, فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ .

جناب مجاہد کہتے ہیں کہ میں ( ایک بار ) سیدنا ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب کی ( یعنی اذان کے بعد دوبارہ اعلان کیا ) تو انہوں نے فرمایا مجھے یہاں سے لے چلو ، بیشک یہ بدعت ہے ۔

توضیح!تثویب سے مراد ایک تو وہ کلمہ ہے جو فجر کی اذان میں کہا جاتا ہے۔ (الصلواۃ خیر من النوم) یہ حق اور مسنون ہے۔ مگر یہاں اس سے مراد وہ اعلانات وغیرہ ہیں۔جو اذان ہو جانے کے بعد لوگوں کو مسجد میں بلانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ اس مقصد کےلئے کچھ حیلہ بھی کیا جاتا ہے۔ مثلا کہیں درود شریف پڑھا جاتا ہے۔اور کہیں تلاوت قرآن کی جاتی ہے۔اور کہیں صاف سیدھا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ کہ جماعت میں اتنے منٹ باقی ہیں تو ایسی کوئی بھی صورت جائز نہیں۔مسلمانوں پر واجب ہے کہ نماز کا وقت ہوجانے کے بعد بروقت نماز کے لئے حاضر ہوں۔ہاں مسجد کی طرف راہ چلتے ہوئے کسی سوئے ہوئے کو جگانا یا غافل اور ست لوگوں کو متنبہ کردینا۔ کہ اٹھو نماز کے لئے چلو۔بلاشبہ جائز اور مطلوب ہے۔یہ ممنوعہ تثویب میں شمار نہیں۔

فوائد ومسائل:1۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آخر میں نابینا ہوگئے تھے اس لئے انھوں نے اپنے قائد سے کہا کہ مجھے یہاں سے لے چلو 2۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین بدعت اور بدعتیوں سے بہت نفرت کرتے تھے۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اتباع سنت کا شوق مثالی تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت