فهرس الكتاب

الصفحة 1591 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: مالوں کی زکوٰۃ کہاں وصول کی جائے

1591 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ

سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے ، وہ اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " نہ «جلب» ہے اور نہ «جنب» اور ان کے مالوں کی زکوٰۃ ان کے گھروں ہی پر وصول کی جائے ۔ "

(جلب) بمعنی لانا اور کھینچنا۔یعنی عامل کو یہ قطعًا روا نہیں کہ اپنا مرکز کسی ایسی جگہ بنالے جہاں مالکوں کو اپنے جانور کھینچ کر لانا پڑیں۔اور وہ مشقت اُٹھاتے پھریں۔اور اسی طرح مالکوں کو بھی جائز نہیں کہ تحصیل دار زکواۃ کی آمد کا سن کر اپنے جانور اپنے پڑائو سے دور لے جایئں۔اور پھر وہ انہیں ڈھونڈھتا پھرے۔ان کے اس عمل کو (جنب ) کہتے ہیں۔اس کا لغوی معنی ہے۔ پہلو تہی کرنا ۔دور ہونا۔ 2۔اسلام کی ایسی تعلیمات ہی اس کے دین فطرت ہونے کی دلیل ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت